14 جولائی 2013 - 19:30
پاکستان میں قومی سلامتی کی پالیسی کی تدوین

پاکستان کی حکومت اس ملک میں قومی سلامتی کی نئی پالیسی کی تدوین کی کوشش میں ہے۔

ابنا: پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی پر اس ملک کے فوجی و غیرفوجی ماہرین غور کررہے ہیں ۔ اس پالیسی کا پہلا مقصد ، انتہا پسند گروہوں کی نابودی اور ملک کے اندر اور ہمسایہ ملکوں میں دھشتگردانہ حملوں کا سدباب کرنا ہے ۔پاکستان کی نئی سیکورٹی پالیسی پانچ شقوں پر مشتمل ہے جس میں دھشتگردی کے نیٹ ورکوں کو ختم کرنا ، دھشتگردی کو کنٹرول کرنا ، انتہا پسندی کی پیشنگوئی ، دہمکیوں کے مقابلے کے لئے عام ٹرینئگ کا انتظام کرنا اور انتہا پسندی کی روک تھام شامل ہے ۔نواز شریف کہ جو مئی کے مہینے میں پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ، پاکستان کی معیشت کے احیاء اور اس ملک میں امن و استحکام کی برقراری کے مقصد سے نئی قومی سلامتی پالیسی کی تیاری کے درپے ہیں ۔طے شدہ پروگرام کے مطابق نئی پالیسیاں ، پاکستان کے خفیہ اداروں  کہ جو براہ راست اس ملک کے وزیر اعظم کے زیر نظر ہیں میں اصلاحات کے عمل کے ساتھ شروع ہوں ۔پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ جمعرات کو پاکستان کی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ہیڈ کواٹر کا دورہ کیا اور نزدیک سے فوج کے اس خفیہ ادارے کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔نواز شریف گذشتہ چودہ سال سے حکومت مخالف بلاک میں رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے اپنے ملک کے خلاف پیش آنے والی دہمکیوں کا نزدیک سے جائزہ لیا ہے اس وقت جبکہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم بن چکے ہیں ملک میں بنیادی اصلاحات کے پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لئے کوششوں میں مصروف نظر آرہے ہیں ۔نواز شریف نے اس سے قبل پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے اپیل کی تھی کہ ملک کے قومی مسائل خاصطور پر فوج کے اختیارات اور دھشتگردی کے خلاف مہم  کے بارے میں باہمی صلاح مشورے کے لئے ایک ساتھ بیٹھیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم کی فوج کے اختیارات کے شفاف ہونے دھشتگردی کے کنٹرول اور اسی طرح اس ملک میں نئی سیکورٹی پالیسی کی تدوین کو مشخص کیئے جانے پر تاکید سے نشاندہی ہوتی ہے کہ نواز شریف کی نظر میں نئی سیکورٹی پالیسی جمہوری اصلاحات کے دائرے میں ہونے چاہیں اور ایسی ہی پالیسیاں ملک کے اقتصادی و سیاسی و سیکورٹی شعبوں کی تقویت کا باعث بن سکتی ہیں ۔نواز شریف کا یہ خیال ہے کہ اگر پاکستان کی نئی سیکورٹی پالیسی فوج کے اختیارات کے محدود ہونے اور اس اہم سیکورٹی ادارے کی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر مرکوز رہیں تو اس شعبے میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوسکتی ہیں ۔

.......

/169